5 سوالات اور جوابات - HPV Inform

سوالات اور جوابات

یہاں آپ کو نوجوانوں اور والدین/نگہداشت کنندگان کے HPV ویکسین سے متعلق عموماً پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات مل سکتے ہیں۔

HPV ویکسین کیسے حاصل کی جائے۔

کیا نوجوان HPV ویکسین لگوانے کا انتخاب کر سکتے ہیں؟

UK میں، 16 سال سے کم عمر افراد طبی علاج، جیسے ویکسینز کے لیے رضامندی دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ کس مقصد کے لیے ہے اور وہ اپنے فیصلے پر مطمئن ہوں۔

بہتر یہی ہے کہ نوجوان اور ان کے والدین/نگہداشت کنندگان مل کر فیصلہ کریں۔

لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو نوجوان اسکول میں موجود نرس برائے حفاظتی ٹیکہ جات سے HPV ویکسین کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔

والدین/نگہداشت کنندگان اپنے نوعمر بچے کو ویکسین کیسے لگوا سکتے ہیں؟

انگلینڈ میں، نوجوانوں کو HPV ویکسین عام طور پر سیکنڈری اسکول کے سال 8 میں فراہم کی جاتی ہے۔ اس وقت ان کی عمر 12 یا 13 سال ہوتی ہے۔

والدین/نگہداشت کنندگان کو HPV ویکسین کے بارے میں معلومات ای میل یا خط کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔

اس اطلاع میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ اسکول میں ویکسین کب لگائی جائے گی۔

والدین/نگہداشت کنندگان کو ایک رضامندی کا فارم پُر کرنا ہو گا تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ وہ اپنے نوعمر بچے کو ویکسین لگوانے کی اجازت دیتے ہیں۔ فارم مکمل کرنا ضروری ہے، چاہے جواب نہیں ہی کیوں نہ ہو۔

اگر کسی کو فارم مکمل کرنے میں دشواری ہو، تو وہ اسکول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی ٹیم سے رابطہ کر سکتے ہیں، جو خوشی سے مدد فراہم کرے گی۔

فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ نوجوان اور ان کے والدین/نگہداشت کنندگان اپنے انتخاب کے بارے میں پُر اعتماد ہوں۔

اگر کسی کے کوئی سوالات ہوں، تو وہ اپنے GP یا اسکول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی ٹیم سے بات کر سکتے ہیں۔

اگر کسی نے اسکول میں ویکسین لگوانے کا موقع گنوا دیا ہو، تو وہ عام طور پر اپنی 25ویں سالگرہ تک یہ ویکسین لگوا سکتا ہے۔

کیا ایک فرد کے لیے اسکول میں HPV ویکسین لگوانا لازمی ہے؟

اگر کوئی شخص HPV ویکسین لگوانا چاہے لیکن اسکول میں نہ لگوا سکے تو اسے چاہیئے کہ:

  • اسکول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی ٹیم سے رابطہ کرے

نرسز برائے اسکول یا حفاظتی ٹیکہ جات کی سروس معلومات فراہم کر سکتی ہے اور کمیونٹی کلینک میں اپائنٹمنٹ بک کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

  • GP (ڈاکٹر) سے رابطہ کریں

GP سرجری یہ چیک کر سکتا ہے کہ آیا کسی شخص نے ویکسین لگوائی ہے یا نہیں اور ضرورت پڑنے پر اپائنٹمنٹ لینے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

اگر کوئی 25 سال سے کم عمر ہے، تو وہ عام طور پر NHS کے ذریعے HPV ویکسین مفت حاصل کر سکتا ہے۔

اگر کوئی شخص اسکول میں HPV ویکسین لگوانے سے رہ جائے تو کیا ہوتا ہے؟

اگر کسی نے اسکول میں اپنی HPV ویکسین نہیں لگوائی، تو فکر کی ضرورت نہیں — ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔

وہ اب بھی ویکسین حاصل کر سکتے ہیں اور یہ مستقبل میں HPV سے پیدا ہونے والے کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہو گی۔

اسکول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی ٹیم ان افراد سے رابطہ کرے گی جو ویکسین سے محروم رہ گئے تھے، تاکہ اگر وہ چاہیں تو انہیں ویکسین لگوائی جا سکے۔

مزید کیا کیا جا سکتا ہے؟

  •  اسکول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی ٹیم سے رابطہ کریں

نرسز برائے اسکول یا حفاظتی ٹیکہ جات کی سروس معلومات فراہم کر سکتی ہیں اور اپائنٹمنٹ بک کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

  • GP (ڈاکٹر) سے رابطہ کریں

GP سرجری یہ جانچ کر سکتی ہے کہ آیا کسی فرد نے ویکسین لگوائی ہے یا نہیں اور ضرورت پڑنے پر اپائنٹمنٹ بک کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

اگر کوئی 25 سال سے کم عمر ہے، تو وہ عام طور پر NHS کے ذریعے مفت HPV ویکسین حاصل کر سکتا ہے۔

کیا کوئی شخص جو اسکول چھوڑ چکا ہے پھر بھی HPV ویکسین لگوا سکتا ہے؟

جی ہاں۔ اگر کوئی نوجوان بالغ 25 سال سے کم عمر ہے تو اس کی GP یہ چیک کر سکتی ہے کہ آیا اسے HPV ویکسین لگی ہے یا نہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں ویکسین فراہم کر سکتی ہے۔

اگرچہ وہ پہلے ہی جنسی طور پر فعال ہوں، ویکسین پھر بھی انہیں HPV کی دیگر اقسام سے محفوظ رکھ سکتی ہے جن سے ان کا ابھی تک سامنا نہیں ہوا۔

جو شخص 25 سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہے، اسے HPV ویکسین نجی طور پر خرید کر لگوانی پڑ سکتی ہے۔

ہم جنس پرست، دو جنسی رجحان رکھنے والے اور دیگر مرد جو مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں، ان کے متعلق کیا ہے۔ وہ HPV ویکسین کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

ہم جنس پرست، دو جنسی رجحان رکھنے والے اور ایسے مرد جو مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں، HPV کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

ایسے مرد جن کی عمر 45 سال یا اس سے کم ہے اور جو مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں، وہ HPV ویکسین جنسی صحت یا HIV کلینکس سے حاصل کر سکتے ہیں۔

HPV ویکسین کی خوراکوں کی تعداد کسی شخص کی عمر اور مدافعتی حالت پر منحصر ہے:

25 سال سے کم عمر: ایک خوراک

25 تا 45 سال عمر: دو خوراکیں

کمزور مدافعتی نظام یا HIV مثبت: تین خوراکیں

اگر کوئی ٹرانسجینڈر یا غیر بائنری ہے تو کیا ہو گا؟ کیا HPV ویکسین ان کے لیے موزوں ہے؟

کچھ ٹرانس جینڈر افراد (ٹرانس) UK میں جنسی صحت اور HIV کلینکس کے ذریعے مفت ویکسین حاصل کر سکتے ہیں:

  • ٹرانس مرد (وہ مرد جنہیں پیدائش کے وقت عورت قرار دیا گیا تھا) جو 45 سال سے کم عمر ہیں اور دیگر مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں۔
  • ٹرانس خواتین (وہ خواتین جنہیں پیدائش کے وقت مرد قرار دیا گیا تھا) جو 45 سال سے کم عمر ہیں، ان کے لیے کیس بہ کیس بنیاد پر

تاہم اگر کسی کو اسکول میں پہلے ہی ویکسین لگ چکی ہے، تو اسے دوبارہ لگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسکول میں ویکسین کروانا

سال 8 کے طلباء کو اسکول میں ویکسین کب دی جاتی ہے؟

اسکول سب کو اطلاع دے گا کہ حفاظتی ٹیکہ جات کی ٹیم کب HPV ویکسین دینے کے لیے آ رہی ہے۔ وہ یہ بھی بتائیں گے کہ اسکول میں کس جگہ جانا ہو گا۔

جسم کے کس حصے میں انجیکشن لگایا جائے گا؟

HPV ویکسین کسی شخص کے بازو کے اوپری حصے کے پٹھوں میں لگائی جاتی ہے۔

نوجوان، نرس کو بتا سکتے ہیں کہ وہ ویکسین بائیں بازو پر لگوانا چاہتے ہیں یا دائیں پر۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اس بازو کا انتخاب کریں جسے وہ لکھنے کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

کیا HPV ویکسین لگاتے وقت تکلیف ہوتی ہے؟

انجیکشن صرف چند سیکنڈ لیتا ہے۔

کسی کو ہلکی سی تیز چبھن محسوس ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات کسی کا بازو ایک دن کے لیے درد کر سکتا ہے، لیکن یہ عام طور پر جلد ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔

نرسز مہربان ہیں اور آپ کو راحت کا احساس دلوانے میں مددگار ہیں۔

اگر کوئی ویکسین لگوانے سے گھبرا رہا ہو تو کیا ہو گا؟

یہ بالکل نارمل ہے۔ بہت سے لوگ ایسا محسوس کرتے ہیں۔

مدد کے لیے چند تجاویز:

  • کسی استاد یا نرس کو بتائیں – وہ آپ کو پہلے جانے کی اجازت دے سکتے ہیں تاکہ آپ کو انتظار نہ کرنا پڑے۔
  • پرسکون رہنے کے لیے گہری سانسیں لیں۔
  • اپنے ذہن کو بھٹکانے کے لیے 100 سے الٹی گنتی گننے کی کوشش کریں۔
ویکسین لگوانے میں کتنا وقت لگے گا؟
سوئی کتنی بڑی ہے؟

یہ حقیقتاً بہت چھوٹی ہے۔ ہر بار دیئے جانے والے انجیکشن کے لیے ایک ہی سائز کی سوئی استعمال کی جاتی ہے۔

کچھ لوگ مذاق اڑاتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ اسکول میں سوئی کے سائز کے بارے میں کی جانے والی باتوں پر دھیان نہ دیا جائے۔

ویکسین لگوانے کے لیے ایک شخص کو کیا پہننا چاہیئے؟

چھوٹی آستین والی قمیض پہنیں تاکہ بازو تک آسانی سے رسائی ہو سکے۔

اگر کوئی لمبی آستین پہنے ہوئے ہے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ نرسز ویکسین لگواتے وقت اس کی پرائیویسی کا احترام کریں گی۔

کیا کسی شخص کو کسی دوسرے طریقے سے ویکسین لگ سکتی ہے؟

بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں۔ HPV ویکسین لازمی طور پر بازو میں انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہے۔

یہ اس کا کام کرنے کا مؤثر اور محفوظ ترین طریقہ ہے۔

کیا کوئی شخص لیٹ کر HPV ویکسین لگوا سکتا ہے؟

بالکل۔ اگر کسی کو ویکسین لگواتے وقت چکر محسوس ہوں تو وہ لیٹ سکتا ہے۔ بس نرس برائے حفاظتی ٹیکہ جات کو مطلع کر دیں۔

HPV ویکسین کے بارے میں

HPV ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟

1990 کی دہائی میں، آسٹریلیا کے ویکسین سائنس دانوں نے ایک بے ضرر پروٹین بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔ یہ پروٹین حقیقی HPV وائرس کی بیرونی سطح جیسا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے یہ پروٹین لیبارٹری میں  خمیر (yeast) کے خلیوں کی مدد سے تیار کی تھی۔

یہ پروٹین آپس میں جُڑ کر ایک ساخت بناتے ہیں جسے “وائرس نما ذرات” کہا جاتا ہے۔ یہ پروٹین حقیقی HPV سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن یہ اصل وائرسز نہیں ہوتے ہیں اور انفیکشن پیدا نہیں کر سکتے۔

جب کوئی شخص HPV ویکسین لگواتا ہے، تو اس کا جسم “وائرس نما ذرات” کو پہچانتا ہے اور اینٹی باڈیز بنانا سیکھتا ہے۔ اینٹی باڈیز جسم کا وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ حقیقی انفیکشنز کے خلاف لڑتا ہے۔

ویکسین لگوانے کے بعد، اگر کوئی شخص حقیقی HPV وائرس کے رابطے میں آ جائے تو اس کا جسم انفیکشن سے لڑنے کا طریقہ جانتا ہو گا۔ اس طرح HPV بیماریوں کا سبب نہیں بن سکے گا۔

HPV ویکسین کسی شخص کو قدرتی طور پر وائرس لگنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔

HPV ویکسین کتنی مؤثر ہے؟

HPV ویکسین وہ مؤثر ترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے کوئی شخص خود کو HPV کے انفیکشن سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

یہ HPV کی 9 بنیادی اقسام کے خلاف 98% تحفظ فراہم کرتی ہے، جو جنسی اعضاء پر ابھرنے والے مسوں اور HPV سے پیدا ہونے والے کینسرز کا سبب بنتی ہیں۔

دنیا بھر میں کیے جانے والے مطالعات ظاہر کرتے ہیں کہ ویکسین کے آغاز کے بعد سروائیکل کی غیر معمولی حالتوں اور سروائیکل کینسر کے حامل افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

HPV ویکسین میں کیا شامل ہے؟

HPV ویکسین میں ایسے پروٹین ہوتے ہیں جو HPV وائرس کی بیرونی ساخت سے مشابہ ہیں۔ یہ پروٹین جسم کو طاقتور مدافعتی ردعمل پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں تاکہ وائرس سے تحفظ حاصل کیا جا سکے۔

  • ویکسین میں HPV وائرس یا اس کا جینیاتی مواد شامل نہیں ہوتا۔اسی لیے یہ کسی کو HPV یا کینسر لاحق کرنے کا سبب نہیں بن سکتی۔
  •  ویکسین میں کوئی بھی جیلاٹین، پورک (سور کا گوشت) یا انڈے والی مصنوعات بھی شامل نہیں ہوتیں۔

ویکسین میں دیگر اجزاء کی معمولی مقدار بھی شامل ہوتی ہے تاکہ یہ درست طریقے سے کام کرے:

  • ایلومینیم– جسم کو بہتر مدافعتی ردعمل دینے میں مدد دیتا ہے
  • پولی سوربیٹ 80 – اجزاء کو یکجا رکھنے میں مدد دیتا ہے (ایمولسیفائر)
  • ہسٹڈین – ویکسین میں تیزابیت کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے
  • نمک (سوڈیم کلورائیڈ) – عام کھانے کا نمک

HPV ویکسین کے اجزاء کے بارے میں مزید معلومات کے لیے، براہ کرم یہ مریض کا معلوماتی کتابچہ دیکھیں۔

ایک شخص کو HPV ویکسین لگوانے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟

زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ آیا انہیں HPV لاحق ہوا ہے یا نہیں، یا وہ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جسے HPV کی وجہ سے کینسر ہوا ہو۔ چنانچہ یہ سوچنا بالکل فطری ہے کہ آیا HPV واقعی باعثِ تشویش ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ HPV بہت عام ہے۔ اکثر صورتوں میں، یہ کوئی صحت کے مسائل پیدا نہیں کرتا۔ لیکن کچھ افراد میں یہ سنگین بیماریوں، بشمول کینسر، کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ پہلے سے بتانا ممکن نہیں کہ کس پر اس کا اثر ہو گا۔

تحقیقی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ HPV ویکسین کینسر اور HPV سے ہونے والی اموات کی تعداد کو کم کر سکتی ہے۔ یہ معمول کی سروائیکل اسکریننگ کے دوران پائی جانے والی خلیاتی بے قاعدگیوں کو روکنے میں بھی مددگار ہے۔

اسی وجہ سے UK کی حکومت نے سائنس دانوں اور صحت کے ماہرین کی محتاط مشاورت کے بعد—HPV ویکسین کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا۔

کیا HPV ویکسین لگوانے میں تاخیر ممکن ہے؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بہتر یہ ہو گا کہ نوجوانوں کو یہ ویکسین اس وقت دی جائے جب وہ قریبی جنسی تعلقات کے لیے تیار ہوں۔ یہ HPV ویکسین کی پیشکش/لگوانے کے کئی سال بعد بھی ہو سکتا ہے۔

تاہم، HPV ویکسین سب سے مؤثر اس وقت ہوتی ہے جب اسے کسی بھی جنسی تعلق سے پہلے دیا جائے تاکہ مستقبل کے لیے تحفظ فراہم ہو سکے۔

جسم کم عمر میں ویکسین دیئے جانے پر زیادہ مضبوط مدافعتی ردِعمل ظاہر کرتا ہے، اس لیے ویکسین بہتر تحفظ فراہم کرتی ہے۔

HPV ویکسین کسی بھی دوسری ویکسین کی طرح ہے۔ یہ نہ صرف فوری مستقبل کے لیے بلکہ زندگی بھر کے دوران تحفظ فراہم کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔

اگر کوئی شخص 12 یا 13 سال کی عمر میں ویکسین لگواتا ہے تو وہ اس وقت کے لیے محفوظ رہتا ہے جب وہ بڑا ہو کر جنسی تعلقات کے بارے میں سوچنا شروع کرے۔

اگر لڑکے سروائیکل کینسر کا شکار نہیں ہو سکتے تو انہیں HPV ویکسین کی ضرورت کیوں ہے؟

ابتداء میں HPV ویکسین کی پیشکش صرف نوجوان خواتین کو کی جاتی تھی تاکہ ان میں سروائیکل کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

اب واضح سائنسی شواہد موجود ہیں کہ مرد بھی HPV سے پیدا ہونے والے سر اور گردن کے کینسر، نیز عضوِ تناسل اور مقعد کے کینسر سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ 

درحقیقت، HPV سے پیدا ہونے والے کینسر کے تقریباً ہر 10 میں سے 4 کیس لڑکوں یا مردوں میں پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے 2019 سے نوجوان مردوں کو بھی HPV ویکسینیشن پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔

کسی کو HPV ویکسین کے کتنے انجیکشن لگیں گے؟

سائنس دانوں کو اب معلوم ہے کہ نوجوانوں کو دیا جانے والا HPV ویکسین کا صرف ایک انجیکشن بھی HPV سے پیدا ہونے والے کینسر کے خلاف مضبوط تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وقت کے ساتھ یہ تحفظ کمزور پڑتا ہے۔

مزید تحقیق جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ تحفظ درحقیقت کتنی مدت تک قائم رہتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ طویل المدت ہو گا۔

اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ مرتبہ HPV کا شکار ہو، تو ویکسین کی وجہ سے اس کا جسم جان لے گا کہ اس سے کس طرح مقابلہ کرنا ہے۔

کیا کسی کو HPV ویکسین کے ایک سے زیادہ انجیکشن کی ضرورت پڑتی ہے؟

کسی شخص کو کتنے انجیکشنز کی ضرورت ہے، یہ اس کی عمر اور مدافعتی نظام کی کارکردگی پر منحصر ہے:

  • 25 سال سے کم عمر افراد کو عام طور پر 1 انجیکشن لگایا جاتا ہے
  • 25 تا 45 سال عمر کے افراد کو عام طور پر 2 انجیکشن لگائے جاتے ہیں (6 ماہ سے 2 سال کے وقفے کے درمیان)
  • کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو 3 انجیکشن لگائے جاتے ہیں (12 ماہ کے عرصے میں مکمل کیے جاتے ہیں)
کیا HPV ویکسین لگوانا لوگوں کو زیادہ جنسی ساتھی بنانے دیتا ہے؟

کچھ والدین کو فکر ہوتی ہے کہ اپنے نوعمر بچوں کو HPV ویکسین دینے سے وہ زیادہ جلدی جنسی تعلقات شروع کر سکتے ہیں یا زیادہ پارٹنرز بنا سکتے ہیں۔ یہ ایک عام تشویش ہے، لیکن ایسا ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

HPV قریبی جنسی تعلق کے ذریعے آسانی سے پھیل سکتا ہے۔ اس میں مباشرت کے ساتھ ساتھ جنسی اعضاء کا جلد سے جلد کا لمس شامل ہے۔

اسی وجہ سے یہ ویکسین 12 اور 13 سال کے بچوں کو دی جاتی ہے تاکہ وہ جنسی طور پر فعال ہونے سے پہلے محفوظ ہو سکیں۔

ویکسین لگوانا نوجوانوں کو محفوظ رہنے میں مدد دیتا ہے تاکہ جب وہ بڑے ہوں اور جنسی تعلقات کے لیے تیار ہوں تو وہ محفوظ رہیں۔

حکومت نوجوانوں کو HPV ویکسین لگوانے کا کیوں کہہ رہی ہے؟

حکومت نے HPV ویکسین کی سفارش کی ہے کیونکہ یہ محفوظ ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ ویکسین لوگوں کو HPV انفیکشنز اور HPV سے پیدا ہونے والے کینسر سے بچاتی ہے۔

ہر شخص کو اپنے طبی فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ سوالات پوچھنا اور مزید معلومات حاصل کرنا بالکل درست ہے۔

لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ان انتخابات کے نتائج پر غور کیا جائے۔

HPV ویکسین نوجوانوں کو ان کینسرز سے بچا سکتی ہے جو زندگی کے بعد کے مراحل میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ HPV ویکسین لگوانے کا فیصلہ نوجوانوں کے لیے ایک مثبت اور مؤثر انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔

کیا بہت زیادہ ویکسینز لینے سے مدافعتی نظام پر بوجھ پڑ سکتا ہے؟

یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ ہم فکر کریں کہ طبی علاج ہمیں کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ ویکسینز جسم کے لیے بوجھ بن سکتی ہیں۔ بعض دیگر دوائیں، جیسے اینٹی بایوٹکس، کبھی کبھار اس وقت بھی دی گئی ہیں جب ان کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن ویکسین کے بارے میں یہ بات درست نہیں ہے۔

 عالمی ادارۂ صحت  کےایک بڑے مطالعہ سے ثابت ہوا کہ متعدد ویکسینز لینا — حتیٰ کہ ایک ہی وقت میں — جسم کے مدافعتی نظام کو نقصان نہیں پہنچاتا اور نہ ہی اسے کمزور کرتا ہے۔

ویکسینز دراصل مدافعتی نظام کو تربیت دیتی ہیں۔ یہ اسے سکھاتی ہیں کہ انفیکشن سے محفوظ طریقے سے کیسے لڑنا ہے  اور یہ سب اس وقت ہوتا ہے جب انسان کو بیماری نہیں ہوئی ہوتی۔

ویکسینز کے بغیر مدافعتی نظام کو سنگین بیماریوں سے خود ہی لڑنا پڑے گا — اور یہ کسی کے جسم پر کہیں زیادہ سخت اثر ڈال سکتا ہے۔

HPV کے بارے میں

HPV کیا ہے اور یہ کیسے کینسر کا سبب بن سکتا ہے؟

HPV کیا ہے؟

انسانی پیپیلوما وائرس، یا HPV، عام وائرسز کا ایک گروپ ہے۔ HPV ہماری جلد اور جسم کی اندرونی سطح پر جمی ہوئی خلیوں کی تہہ میں رہتا ہے، جیسا کہ جنسی اعضاء، منہ اور حلق۔

HPV کی 100 سے زیادہ اقسام ہیں۔ انہیں دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے: کم خطرہ اور زیادہ خطرہ۔

  • کم خطرے کا حامل HPV جنسی اعضاء پر ابھرنے والے مسے پیدا کر سکتا ہے، لیکن کینسر کا سبب نہیں بنتا۔
  • زیادہ خطرے کا حامل HPV بعض اوقات سنگین بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، بشمول کینسر۔

سروائیکل کینسر کے تقریباً تمام کیسز (99%) زیادہ خطرے کے حامل HPV کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ زیادہ خطرے کا حامل HPV دوسرے کینسرز سے بھی منسلک ہے، بشمول:

  • 90% مقعد کے کینسر
  • 78% اندام نہانی کے کینسر
  • 25% ولوا کے کینسر (خواتین کے جنسی اعضاء کے باہر)
  • 50% عضو تناسل کے کینسر
  • 60% منہ اور حلق کے کینسر

HPV کینسر کا سبب کیسے بنتا ہے؟

زیادہ خطرہ کے حامل HPV کا انفیکشن خلیوں کے کام کرنے کے طریقے کو بدل سکتا ہے۔ اس سے متاثرہ خلیے بے قابو ہو کر تقسیم اور بڑھنے لگتے ہیں۔

زیادہ تر وقت، جسم کا مدافعتی نظام HPV سے متاثرہ خلیوں کو ختم کر دیتا ہے۔ متاثرہ شخص کو علم نہیں ہوتا کہ وہ HPV سے متاثر ہو چکا ہے۔

بعض اوقات، متاثرہ خلیات جسم میں رہتے ہیں اور بڑھتے رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ خلیات کینسر میں بدل سکتے ہیں۔ اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ایک شخص کو HPV کس طرح لاحق ہو سکتا ہے؟

HPV انفیکشن بہت عام ہے اور اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

HPV گہرے جنسی تعلق کے ذریعے آسانی سے پھیلتا ہے۔ اس میں مباشرت کے ساتھ ساتھ جنسی اعضاء کا جلد سے جلد کا لمس بھی شامل ہے۔

ایک شخص کو کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ HPV میں مبتلا ہے؟

زیادہ تر لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ HPV سے متاثر ہو چکے ہیں کیونکہ یہ انہیں بیمار محسوس نہیں ہونے دیتا۔

کسی شخص کے لیے یہ وائرس دوسرے کو منتقل کرنا آسان ہے، بغیر اس بات کو جانے کہ وہ متاثر ہے۔

حتیٰ کہ طویل مدتی تعلقات میں رہنے والے افراد بھی HPV سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ وائرس جسم میں طویل عرصے تک پوشیدہ رہ سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کو جنسی اعضاء پر ابھرنے والے مسے ہو سکتے ہیں۔ HPV کی یہ قسم کینسر کا سبب نہیں بنتی۔

علامات عام طور پر بعد میں ظاہر ہوتی ہیں جب HPV کی وہ اقسام ایسا انفیکشن پیدا کرتی ہیں جو کینسر کا باعث بنتی ہیں۔

کیا HPV کے لیے کوئی ٹیسٹ دستیاب ہیں؟

جی ہاں – اب 25 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین اور وہ افراد جن کے پاس عنقِ رحم ہے، جب وہ سروائیکل کینسر اسکریننگ ٹیسٹ کرواتے ہیں تو ان کا HPV ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔

یہ بات پھر بھی اہم ہے کہ خواتین اور عنقِ رحم رکھنے والے افراد سروائیکل اسکریننگ کروائیں، چاہے انہوں نے HPV ویکسین لگوائی ہو۔

NHS پر HPV سے پیدا ہونے والے دیگر کینسر کے لیے کوئی ٹیسٹ یا اسکریننگ پروگرام دستیاب نہیں ہے۔ اس میں وہ کینسر بھی شامل ہیں جو مردوں کو متاثر کرتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فی الحال کوئی قابلِ اعتماد ٹیسٹ دستیاب نہیں ہیں۔

کیا کنڈوم کا استعمال ایک شخص کو HPV کے اثرات سے محفوظ رکھے گا؟

ہمیشہ نہیں۔

HPV جلد کے ان حصوں پر بھی موجود رہ سکتا ہے جو کنڈوم سے محفوظ نہیں ہوتے۔ کنڈوم خطرہ کم کر سکتے ہیں، لیکن مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے۔

HPV سے بچاؤ کا سب سے بہترین اور محفوظ طریقہ ویکسین لگوانا ہے۔

کیا ویکسینز کے بجائے HPV سے حفاظت کے دوسرے طریقے ہیں؟

ہر وہ شخص جو کبھی جنسی طور پر فعال رہا ہے، HPV کا شکار ہو سکتا ہے — چاہے وہ بہت محتاط ہی کیوں نہ ہو۔ بعض اوقات لوگ HPV سے متاثر ہوتے ہیں اور انہیں اس کا علم نہیں ہوتا۔

حتیٰ کہ کنڈوم کا استعمال بھی ہمیشہ HPV کے پھیلاؤ کو نہیں روک پاتا، کیونکہ یہ جلد سے جلد کے رابطے کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

صحت مند غذا اور ورزش جیسی چیزیں جسم کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن یہ کسی کو HPV سے متاثر ہونے سے نہیں روک سکتی ہیں۔

HPV ویکسین صحت مند طرزِ زندگی کا ایک اور اہم حصہ ہے۔ یہ جسم کو انفیکشن کے خلاف لڑنے کی تربیت دیتی ہے۔

یہ عمل کسی شخص کو HPV سے پیدا ہونے والے کینسر کے خطرے میں ڈالے بغیر ہوتا ہے۔

HPV ویکسین وائرس کے حملے کے مقابلے میں بہتر تحفظ فراہم کرتی ہے۔

HPV کے خلاف ویکسین لگوانا HPV انفیکشن کو روک دے گا اور بعد کی زندگی میں HPV سے پیدا ہونے والے کینسر کے امکانات کو بھی کم کرنے میں معاون ہو گا۔

ہر سال کتنے لوگوں کو HPV کی وجہ سے کینسر ہوتا ہے؟

HPV سے پیدا ہونے والے کینسر تمام جنسوں، عمروں اور پس منظر کے افراد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

UK میں، ہر سال تقریباً 11,210 افراد کو بتایا جاتا ہے کہ وہ HPV سے پیدا ہونے والے کینسر میں مبتلا ہیں

اس میں شامل ہیں:

  • 4,260 خواتین جو سروائیکل، اندام نہانی اور ولوا کینسر سے متاثر ہیں،
  • 350 مرد جنہیں عضوِ تناسل کا کینسر تشخیص ہوا،
  • 1,350 مرد و خواتین جو مقعد کے کینسر میں مبتلا ہیں (یہ خواتین میں زیادہ عام ہے)،
  • 5,250 مرد و خواتین جو منہ اور حلق کے کینسر میں مبتلا ہیں (یہ مردوں میں زیادہ عام ہے)

(MacMillan/کینسر سے متعلقہ تحقیق)

HPV کی وجہ سے ہونے والے کینسر سے ایک فرد کو کن علامات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

علامات کینسر کی قسم پر منحصر ہوتی ہیں۔

سروائیکل کینسر کی علامات میں یہ شامل ہیں:

  • حیض کے درمیان یا مباشرت کے بعد خون آنا
  • اندام نہانی سے ہونے والے اخراج میں تبدیلیاں

منہ یا حلق کے کینسر کی علامات میں یہ شامل ہو سکتی ہیں:

  • گردن میں بغیر درد کے گلٹی یا سوجن۔

اگر آپ کو کوئی غیر معمولی علامات محسوس ہوں، تو ڈاکٹر سے بات کریں۔

مزید معلومات آپ NHS یا Macmillan کی ویب سائٹس پر حاصل کر سکتے ہیں۔

HPV کی وجہ سے ہونے والے کینسر کے علاج کے اختیارات کیا ہیں؟

درست علاج کا انحصار درج ذیل عوامل پر ہے:

  • یہ کس قسم کا کینسر ہے
  • کینسر کی شدت کتنی ہے
  • آیا کینسر پھیل چکا ہے
  • کسی شخص کی مجموعی صحت۔

علاج میں درج ذیل طریقے شامل ہو سکتے ہیں:

  • سرجری
  • کیموتھیراپی
  • شعاعی علاج (ریڈیوتھیراپی)

ڈاکٹرز ایک ٹیم کی صورت میں، مل کر بہترین علاج کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ مریض کی خواہشات کو بھی مدنظر رکھیں گے۔

کچھ افراد کو علاج کے دوران یا بعد میں مضر اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ مہینوں یا حتیٰ کہ برسوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں، یہ مضر اثرات مستقل بھی ہو جاتے ہیں۔

کچھ خواتین کو علاج کے بعد قبل از وقت انقطاعِ حیض (menopause) ہو سکتا ہے۔ جو افراد مستقبل میں بچے چاہتے ہیں، انہیں علاج شروع کرنے سے پہلے انڈے یا نطفے محفوظ کرنے میں مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔

حفاظت اور ضمنی اثرات

کوئی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ HPV ویکسین محفوظ ہے؟

یہ بالکل معمول کی بات ہے کہ ایک فرد یہ سمجھنا چاہے کہ ویکسینز کس طرح تیار اور اس کی جانچ کی جاتی ہے۔

دیگر تمام ادویات کی طرح، HPV ویکسین بھی حفاظت اور مؤثریت کو یقینی بنانے کے لیے سخت جانچ کے مراحل سے گزر چکی ہے۔ اس میں دنیا بھر کے لاکھوں افراد کے ساتھ طبی آزمائشوں میں برسوں کی تحقیق شامل تھی۔

یو کے کی طبی اور نگہداشت صحت کی پروڈکٹس کی ریگولیٹری ایجنسی (MHRA) نے HPV ویکسین کو صرف اس وقت منظور کیا جب انہوں نے ان طبی آزمائشوں کے دوران جمع کیے گئے تمام ڈیٹا کا جائزہ لیا۔

یو کے نے 2008 میں HPV ویکسینیشن پروگرام متعارف کرایا۔ اب، 100 سے زیادہ ممالک HPV ویکسین کو اپنے صحت کے پروگراموں کے حصے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ویکسین کی منظوری کے بعد بھی، ماہرین مسلسل جانچ کرتے رہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ HPV ویکسین اب بھی محفوظ ہے۔ اگر کبھی کوئی سنگین مسئلہ سامنے آئے، تو MHRA اس کے استعمال کو روک سکتی ہے۔ HPV ویکسین کے معاملے میں ایسا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔

اب لاکھوں افراد سے حاصل شدہ ڈیٹا موجود ہے۔ HPV ویکسین بدستور سب سے محفوظ اور مؤثر ترین ویکسینز میں شمار ہوتی ہے۔

HPV ویکسین لگوانے کے بعد ایک شخص کون سے مضر اثرات کی توقع کر سکتا ہے؟

کسی بھی دوا کی طرح، HPV ویکسین لگنے کے بعد کچھ لوگ معمولی مضر اثرات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

سب سے عام مضر اثرات یہ ہیں:

  • بازو میں وہاں سوجن جہاں سوئی لگی ہو
  • انجیکشن کے مقام پر سرخی یا سوجن
  • دن بھر بازو میں درد

یہ مضر اثرات عام اور فطری ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ کسی شخص کا جسم HPV کے خلاف مزاحمت پیدا کر رہا ہے۔

کم عام مضر اثرات (تقریباً ہر 10 میں سے 1 شخص کو متاثر کرتے ہیں):

  • بیمار یا کمزوری محسوس کرنا
  • قے
  • گرمی یا کپکپاہٹ محسوس کرنا (بخار)

یہ پریشان کن ہوسکتے ہیں، لیکن عموماً ایک یا دو دن میں ختم ہو جاتے ہیں۔

یاد رکھیں، HPV ویکسین صحت کے حد سے زیادہ سنگین مسائل کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہے۔

مضر اثرات کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات کے لیے، براہ کرم یہ مریضوں کا معلوماتی کتابچہ دیکھیں۔

کیا HPV ویکسین لگوانے سے کوئی زیادہ سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں؟

انتہائی کم مواقع پر، کسی شخص کو شدید الرجک ردِعمل (جسے اینافائلیکسیس (anaphylaxis) کہا جاتا ہے) واقع ہو سکتا ہے۔

یہ تقریباً دس لاکھ میں سے 1 فرد کو لاحق ہوتا ہے — اس کا امکان اتنا ہی ہے جتنا کسی پر بجلی گرنا۔

یہ ردِعمل صرف اسی صورت میں ہوتا ہے جب کسی شخص کو ویکسین کے کسی جزو سے شدید الرجی ہو۔

یہ عام طور پر ویکسین لگنے کے چند منٹوں کے اندر ظاہر ہوتا ہے۔

نگہداشت صحت کے تمام پیشہ ور افراد جو ویکسین لگانے کے عمل میں شامل ہیں مکمل تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس فوری علاج کے لیے دوا موجود ہوتی ہے۔

کیا کسی شخص کو طویل المدتی بیماریوں کے باوجود HPV ویکسین لگائی جا سکتی ہے؟

جی ہاں – زیادہ تر افراد ویکسین حاصل کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اگر انہیں طویل مدتی بیماری بھی ہو۔

البتہ کچھ مخصوص حالات میں ویکسینیشنز تجویز نہیں کی جاتیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شخص کو پہلے HPV ویکسین کے اجزاء سے الرجک ردِعمل (یا اینافائلیکٹک (anaphylactic) ردِعمل) واقع ہوا ہو۔

ڈاکٹر یا نرس ہمیشہ یہ جانچ کریں گے تاکہ یقین ہو جائے کہ ویکسین ہر شخص کے لیے محفوظ ہے۔

کیا HPV ویکسین کینسر کا سبب بن سکتی ہے؟

نہیں۔ HPV ویکسین صرف وائرس کی سطح سے حاصل کردہ ایک پروٹین کے ذریعے تیار کی جاتی ہے۔ چونکہ یہ وائرس کا صرف ایک حصہ ہے، اس لیے یہ HPV ایسا کوئی انفیکشن پیدا نہیں کر سکتی، جو کینسر کی نشوونما کا سبب بن سکے۔

دنیا بھر کیے جانے والے تحقیقی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ HPV ویکسین محفوظ ہے اور کینسر کا سبب نہیں بنتی ہے۔

کیا HPV ویکسین بانجھ پن کا سبب بنتی ہے؟

نہیں۔ HPV ویکسین تولیدی صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچاتی۔

بلکہ یہ تولیدی صلاحیت کے تحفظ میں مددگار ہے کیونکہ یہ سروائیکل کی ایسی غیر معمولی تبدیلیوں اور سروائیکل کینسر سے بچاؤ میں مؤثر ہے، جو نسل افزائش کو دشوار بنا سکتے ہیں۔

کیا بے ہوش ہونا HPV ویکسین کا ضمنی اثر ہے؟

کچھ نوجوان HPV ویکسین لگوانے سے پہلے یا بعد میں چکر یا بے ہوشی کی کیفیت محسوس کرتے ہیں۔

ایسا عام طور پر گھبراہٹ کی وجہ سے ہوتا ہے، نہ کہ ویکسین کی وجہ سے۔